Paisa Phenk Tamasha Dekh

پیسہ پھینک تماشہ دیکھ

ایک  مشہور کہاوت ہے کہ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ لیکن پیسہ پھینک کر تماشہ دیکھنےو الے آج کل سیانے ہو جائیں گے اس بات کا اندازہ آپ پرائیوئٹ سکولز کے حال و احوال جان کر باخوبی لگا  سکتے ہیں جہاں ہر دوسرے والدین کی زبان کی پر ایک ہی وِرد ہوتا ہے کہ خبردار ہمارے بچے کو کچھ کہا ! ہم آپ کو فیس دیتے  ہیں ہم بچے فری نہیں پڑھارہے یہاں۔۔۔ اور ایسے ہی لاتعداد جملے ہوتے ہیں جو کہ والدین کی طرف سے سکول ٹیچرز اور سکول انتظامیہ پر کَسے جاتے ہیں۔۔۔

پرائیوئٹ سکولز  کی حالتِ زار کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ لوگ ادارے کے Professionalism پر Commercialismکے تانے سے حملہ کرتے ہیں۔ سکول میں فیس ادا کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ استاد کو خرید لیاہے ۔کیا آپ کے فیس ادا کرنے سے وہ آپکا ملازم بن گیا۔۔۔؟

استاد  تو استاد ہوتا ہے چاہے وہ پرائیوئٹ سکول کا ہو یا گورنمنٹ سکول کا، استاد کی عزت کرنا سوسائٹی کی اولین ترجیح ہونا چاہیئے لیکن کیونکہ  پرائیوئٹ سکولز کے بارے میں ایک بات مشہور ہے کہ یہ سکولز صرف اور صرف Commercial ادارے ہیں یہاں تعلیم فروخت کی جاتی ہے ہمارے معاشرے میں استاد کی عزت کرنا مناسب فعل نہیں سمجھا جاتا، ایسا میں اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ یہ بہادری والا کام اکثر ہم بچوں کے سامنے استاد کی عزت افزائی کر کے کرتے ہیں۔۔۔

لیکن اگر ہم حقیقت کا سامنا کریں تو آپ کو جان کر حیرانگی ہوگی کہ صحیح معنوں تعلیم صرف پرائیوئٹ سکول ہی فراہم کر رہے ہیں اگر میری بات پر یقین نہ ہو صاحب تو کسی بھی بڑے سیاستدان و سرکاری ملازمین سے پوچھ لیں کے آپ کا بچہ کون سے سکول میں پڑھتا ہے  تو بڑے فخر سے جواب آئے گا فلاں  انگلش میڈیم پرائیوئٹ سکول سسٹم میں پڑھتا ہے۔۔۔

اب اگر حالات ایسے ہوں تو پرائیوئٹ سکولز کی دیانت داری اور ٹیچرز کی عزت نہ کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا صاحب اور ویسے بھی صاحب اگر تعلیم کے بارے میں مثبت ہو کر سوچیں تو اِس بات یقینی اندازہ ہو جائے گا کہ اگر ملکی سطح پر تعلیم کی صورتِ حال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ دنیا کی 500 بڑی یونیورسٹیوں  کی لسٹ میں پاکستان کی ایک بھی سرکاری یونیورسٹی  شامل نہیں ۔ اگر اِنہیں حالات کو دیکھا جائے تو پاکستان کی تعلیمی صورتِ حال میں  جو  تعمیری کردار پرائیوئٹ سیکٹر ادا کر رہا ہے  وہ شاید گورنمنٹ کو ادا کرنا چاہئے ۔ گورنمنٹ ادارے لاکھ کوشش کرنے کے باوجود بھی پیشہ وارانہ تعلیم کے اس لیول کو نہیں پہنچ سکتے جو پرائیوئٹ ادارے مہیا کر رہے ہیں۔اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے شاید پرائیوئٹ سکولز کو اسکا بات کا علم ہے کہ اگر ہم کوالٹی ایجوکیشن مہیا نہیں کریں گے تو بچے ادارہ تبدیل کر لیں گے اور یہ بات کسی بھی کمرشل ادارے کو ہمیشہ ناگوار گزرتی ہے۔

ہمیں اگر ترقی و تہذیب یافتہ قوموں کے مقابل کھڑا ہونا ہے تو سوسائٹی کے اس ٹرینڈTrend کو ختم کرنا ہوگا کہ ہم ٹیچرز کی تذلیل یہ کہہ کر کریں کہ ہم تو فیس ادا کر ر ہے ہیں۔۔۔

تمام والدین اپنے بچوں کو استاد کا ادب کرنے کی تلقین کریں اور خود بھی اس بات کو جان لیں اگر آج آپ اس تحریر کو پڑھ رہے ہیں تو یہ بھی کسی نہ کسی استاد کی بدولت ہے ۔۔۔

تحریر: مدثر حمید

Blog Attachment
%d bloggers like this: